تحریر: مولانا سید نجیب الحسن زیدی
حوزہ نیوز ایجنسی | اب تک آنے والے امریکہ کے حالیہ انتخابی نتائج کے مطابق جن میں ریپبلکن جماعت کو بعض اہم محاذوں پر شکست اور ڈیموکریٹک امیدواروں کو نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، امریکی سیاست کے بدلتے ہوئے رجحانات کی طرف ایک اہم اشارہ ہیں۔ بظاہر یہ نتائج محض دو سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابی کشمکش کا نتیجہ دکھائی دیتے ہیں، لیکن ان کے پس منظر میں امریکی معاشرے کی فکری، سماجی اور سیاسی ترجیحات میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔
یہ کامیابیاں اس امر کی علامت ہیں کہ امریکی عوام کا ایک قابلِ ذکر طبقہ ٹرمپی طرزِ سیاست، اس کی جارحانہ خارجہ پالیسی، داخلی تقسیم اور مذہبی انتہا پسند حلقوں کے بڑھتے ہوئے سیاسی اثر و رسوخ سے مطمئن نہیں ہے۔ تاہم اس انتخابی تبدیلی کو انجیلی تحریک یا صہیونی عیسائیت کے خاتمے کی علامت سمجھ لینا ایک سیاسی سادہ لوحی ہوگی۔
حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں "انجیلی تحریک" کسی ایک صدر، کسی ایک جماعت یا کسی ایک انتخابی مہم کی محتاج نہیں۔ اس کی جڑیں مذہبی اداروں، مالیاتی نیٹ ورکس، ذرائع ابلاغ، تھنک ٹینکس، انتخابی لابیوں اور حکومتی ڈھانچوں میں اس قدر گہری ہیں کہ وائٹ ہاؤس میں چہرے بدل جانے سے اس کا نظریاتی اور تنظیمی وجود ختم نہیں ہوجاتا۔ "ریپبلکن" کو انتخابی نقصان پہنچنے کے باوجود یہ تحریک اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گی، اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی اور اسرائیل کی حمایت کو اپنے مذہبی و سیاسی ایجنڈے کا بنیادی حصہ بنائے رکھے گی۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ کون سی جماعت انتخابات جیتتی ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا امریکی معاشرہ اس مذہبی انتہا پسندی، جنگ پسندانہ ذہنیت اور صہیونی منصوبہ بندی کو سیاسی و اخلاقی سطح پر چیلنج کرنے کے لیے تیار ہے؟ کیا انتخابی نتائج محض اقتدار کی تبدیلی تک محدود رہیں گے یا انصاف، انسانی حقوق اور عالمی امن کے حق میں کسی وسیع تر فکری تبدیلی کا پیش خیمہ بھی بن سکیں گے؟
حالیہ انتخابات میں ڈیموکریٹس کی کامیابی اور سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنا اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ ابتدائی نتائج کے مطابق ایوانِ نمائندگان میں بھی ڈیموکریٹس اکثریت حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ مہنگائی، اخراجاتِ زندگی، ایران کے ساتھ جنگ اور حکومتی بدعنوانی کے خلاف عوامی ناراضی نے ریپبلکن کے انتخابی نقصان میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
لیکن اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ انتخابی شکست نظریاتی تحریکوں کی شکست نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کہ ڈیموکریٹس کی کامیابی ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر ایک سیاسی قدغن ثابت ہو، بعض جارحانہ فیصلوں کی رفتار سست پڑ جائے اور مذہبی انتہا پسندوں کو حکومتی سطح پر حاصل ہونے والی غیر معمولی سرپرستی میں کمی آئے، لیکن اس سے انجیلی تحریک کا مذہبی و سیاسی منصوبہ خودبخود ختم نہیں ہوگا۔
یہ تحریک اپنی مالیاتی طاقت، مذہبی اداروں، ذرائع ابلاغ، انتخابی نیٹ ورکس اور اسرائیل نواز لابیوں کے ذریعے اپنا کام جاری رکھے گی۔ جس طرح یہودی صہیونیت کسی ایک امریکی صدر یا جماعت کی محتاج نہیں اور ڈیموکریٹک و ریپبلکن دونوں جماعتوں میں اس کے حامی اور اثر انداز ہونے والے حلقے موجود ہیں، اسی طرح مسیحی صہیونیت بھی اپنی نظریاتی اور تنظیمی سرگرمیاں جاری رکھے گی۔ فرق صرف اتنا ہوسکتا ہے کہ اسے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے سیاسی حالات کے مطابق حکمت عملی تبدیل کرنا پڑے۔
اس لیے ڈیموکریٹس کی کامیابی کو اس تحریک کے خاتمے کے بجائے اس کے سیاسی اثرات کو محدود کرنے کے ایک ممکنہ موقع کے طور پر دیکھنا زیادہ حقیقت پسندانہ ہوگا۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ امریکی معاشرے میں ایسے حلقے مضبوط ہوں جو مذہب کو جنگ، نسل پرستی، قبضے اور سیاسی تسلط کا جواز بنانے کے خلاف آواز بلند کریں۔ جو یہودیوں کے خلاف نفرت اور صہیونیت کی سیاسی جارحیت کے درمیان فرق سمجھیں، مسیحیت کو جنگی منصوبوں کا آلہ بنانے کی مخالفت کریں اور فلسطینیوں سمیت تمام مظلوم اقوام کے بنیادی انسانی حقوق کا دفاع کریں۔
مسئلہ ریپبلکن یا ڈیموکریٹ نہیں، مسئلہ انصاف اور ناانصافی کا ہے!
امریکی انتخابات کے یہ نتائج ایک اہم سیاسی پیغام ضرور رکھتے ہیں، لیکن عالمی سیاست کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔ ریپبلکن چلے جائیں اور ڈیموکریٹس آجائیں، صدر تبدیل ہوجائے اور اقتدار کے ایوانوں میں نئے چہرے داخل ہوجائیں، اس سے اس وقت تک کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی جب تک امریکی خارجہ پالیسی کی بنیادوں میں موجود سامراجی ذہنیت، صہیونی مفادات کی بالادستی اور مذہبی انتہا پسندی کے سیاسی استعمال کو چیلنج نہیں کیا جاتا۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ڈیموکریٹک جماعت کی کامیابی کو فلسطین، ایران یا مزاحمتی محاذ کے لیے خودبخود کسی مثبت تبدیلی کی ضمانت نہیں سمجھا جاسکتا۔ امریکہ کی دونوں بڑی جماعتوں کی تاریخ اسرائیل کی حمایت سے عبارت ہے۔ اس لیے اصل پیمانہ جماعتی وابستگی نہیں بلکہ عملی کردار ہونا چاہیے۔
اگر کوئی ڈیموکریٹک رہنما اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز بلند کرتا ہے، فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا ہے، جنگی پالیسیوں کو مسترد کرتا ہے اور امریکی عوام کے ٹیکسوں کو تباہی کے بجائے انسانی فلاح پر خرچ کرنے کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کے اس موقف کی حمایت ہونی چاہیے۔ اسی طرح اگر کوئی ریپبلکن رہنما مذہبی انتہا پسندی، صہیونی جارحیت اور جنگی جنون کے خلاف کھڑا ہوتا ہے تو اس کے ساتھ بھی انصاف پسندانہ رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
کیونکہ اصل تقسیم ریپبلکن اور ڈیموکریٹ کے درمیان نہیں، بلکہ انصاف اور ناانصافی، امن اور جنگ، انسانی وقار اور سامراجی تسلط کے درمیان ہے۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ایک صہیونی لابی کی جگہ دوسری لابی کو دشمن سمجھ کر محض جماعتی تبدیلی پر جشن منایا جائے، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکی معاشرے کے اندر انصاف پسند آوازوں کو تقویت دی جائے۔ جنگ مخالف تحریکوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، آزاد صحافت، مذہبی اعتدال پسندوں اور ان تمام شہری حلقوں کو ایک مشترکہ انسانی اصول پر متحد کیا جائے جو کسی بھی قوم کے خلاف مذہب، نسل یا طاقت کے نام پر ہونے والے ظلم کو قبول نہیں کرتے۔
انجیلی تحریک کی اصل شکست اس وقت ہوگی جب اس کے مذہبی نعروں کے پیچھے چھپی سیاسی جارحیت بے نقاب ہوگی، جب امریکی عوام یہ سمجھیں گے کہ حضرت مسیحؑ کے نام پر جنگ، تباہی اور قتل و غارت کا جواز پیش کرنا خود مسیحی تعلیمات کی روح کے منافی ہے، اور جب اسرائیل کی حمایت کو امریکی سیاست میں ایک ناقابلِ سوال قومی فریضہ سمجھنے کا تصور دم توڑنے لگے گا۔
یہی وہ فکری اور اخلاقی تبدیلی ہے جو کسی انتخابی کامیابی سے کہیں زیادہ اہم اور پائیدار ہوسکتی ہے۔
تاریخ کا فیصلہ آخرکار اس بنیاد پر نہیں ہوگا کہ وائٹ ہاؤس میں کون بیٹھا تھا، بلکہ اس بنیاد پر ہوگا کہ اقتدار رکھنے والوں نے مظلوم کے ساتھ کیا سلوک کیا اور انصاف کے تقاضوں کے سامنے کس نے سر جھکایا۔
اور شاید یہی موجودہ امریکی انتخابات کا سب سے بڑا سبق ہے کہ اقتدار کی تبدیلی ایک امکان پیدا کرسکتی ہے، لیکن دنیا کو بدلنے کے لیے ضروری ہے کہ انسانوں کے اندر انصاف کا شعور بیدار ہو۔ کیونکہ صہیونیت کا مقابلہ صرف کسی سیاسی جماعت کی شکست سے نہیں، بلکہ اس فکر کی شکست سے ہوگا جو طاقت کو حق، قبضے کو تحفظ اور ظلم کو مذہبی تقدس عطا کرتی ہے۔
دنیا کو نئے حکمرانوں سے زیادہ ایک نئے سیاسی ضمیر کی ضرورت ہے؛ ایسا ضمیر جو اسرائیل اور امریکہ سمیت کسی بھی طاقت کے سامنے حق گوئی سے نہ گھبرائے اور جس کے نزدیک مظلوم کی حمایت کسی خاص پارٹی کا کا انتخاب اور اقتدار میں آنا نہیں بلکہ انسانیت کا فرض ہو۔










آپ کا تبصرہ